محمدعرفان صدیقی،جاپان اورسیز پاکستانیوں کا کنونشن اور میاں شہباز شریف 

shahbaz sharif

ستائیس اپریل بروز اتوار مجھے لاہور ایئرپورٹ سے باہرآتے ہی یہ احساس ہو چکا تھا کہ یہ اب وہ لاہور نہیں رہاجو ایک دہائی قبل تھا، آج کا لاہور ایک جدید اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا لاہور تھا، چاروں طرف کشادہ سڑکیں،جن کے ستائیس اپریل بروز اتوار مجھے لاہور ایئرپورٹ سے باہرآتے ہی یہ احساس ہو چکا تھا کہ یہ اب وہ لاہور نہیں رہاجو ایک دہائی قبل تھا، آج کا لاہور ایک جدید اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا لاہور تھا، چاروں طرف کشادہ سڑکیں،جن کے ساتھ خوبصورت ،پرفضا اور صحت منداور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی گرین بیلٹ کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی تھی.

ایئرپورٹ سے ہوٹل کے راستے میں کئی کلومیٹرطویل خوبصورت پارک بھی موجود تھا جہاں چھٹی کے دن ہزاروں کی تعداد میں نوجوان کرکٹ اور دوسرے کھیلوں میں مگن نظر آرہے تھے جبکہ اسی سڑک کے دوسری جانب دو عالمی شہرت یافتہ فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کے آخری مراحل میں تھے ، غرض ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کے صرف بیس منٹ کے سفر میں لاہور، دنیا بھر سے آنے والے ڈھائی سو پاکستانیوں پر اپنی تیز رفتار ترقی کا شاندار تاثر قائم کرچکا تھا،جو سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے لئے باعث فخر تھا،جو پاکستان کو تیزی سے ترقی کرتے دیکھنا چاہتے تھے .

آج یہ ڈھائی سو سے زائد سمندر پار پاکستانی انتہائی مختصر نوٹس پر دنیا کے بیس سے زائد ممالک سے سفر کرکے لاہور پہنچے تھے تاکہ حکومت پنجاب کی جانب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن میں شرکت کرسکیں، یہ کنونشن پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی بھی حکومت کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کئے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد کی پہلی مثال ہے تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ جو کام وفاقی حکومت کو کرنا چاہئے وہ صوبائی حکومت کررہی ہے کیونکہ اس کنونشن اور کمیشن کے قیام سے صرف اوورسیز میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کا ہی بھلا ہوسکے گا تاہم یہ ایک اچھی کوشش ہے جسے دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی اپنانا چاہئے،حکومت پنجاب کی جانب سے بیرون ملک سے آئے ہوئے پاکستانیوں کو لاہور کی سیر کرانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا جس میں پاک بھارت سرحد پر باب آزادی پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے کے بعد ،بادشاہی مسجد علامہ اقبال کے مزار پر حاضری کے بعد فوڈ اسٹریٹ میں محفل موسیقی کے ساتھ عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا،جبکہ اگلے روز میٹرو بس کے ذریعے لاہور کا دورہ بھی اس پروگرام کا حصہ تھا۔

 اب اٹھائیس اپریل اور پیر کا دن تھا، پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہائوس میں اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن کا آغاز کسی بھی لمحے ہوا چاہتا تھا ، دنیا بھر سے آئے ہوئے ڈھائی سو سے زائد افراد پر مشتمل اوورسیز پاکستانیوں کے وفود وزیراعلیٰ ہائوس کے حال میں موجود تھے۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کنونشن کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے پوری حکومتی مشینری کو کنونشن حال میں جمع کیا ہوا تھا،جن میں چیف سیکریٹری پنجاب سمیت ان کی ٹیم کے کئی ارکان ، آئی جی پنجاب پولیس اور ان کے محکمے کے کئی اعلیٰ افسران، اوورسیز پاکستانیوں کی فائونڈیشن کے ایم ڈی اور ان کا عملہ، پنجاب کی صوبائی کابینہ کے اہم ارکان، صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، وزیر تعلیم رانا مشہود ، وومن ڈیولپمنٹ کی وزیر جاپانی نژاد پاکستانی شہری حمیدہ وحید الدین ،صوبائی وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبدالوحید آرائیں سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی رہنما تقریب میں موجود تھے ۔

صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے کنونشن کے حوالے سے جو تفصیلات بیان کیں ان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے حکومت پنجاب لاہور میں اوورسیز پاکستانی کمشنری کا قیام عمل میں لائے گی جس میں سیاسی، حکومتی ،پولیس اور بیوروکریٹ حکام شامل ہوں گے جبکہ پنجاب آئی ٹی بورڈ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لئے خصوصی ویب سائٹ بھی تیار کی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی پاکستانی اپنی شکایت باہر رہتے ہوئے بھی اوورسیز پاکستانی کمشنریٹ تک پہنچا سکے گا اور اس درخواست پر ہونے والی کارروائی سے بھی ویب سائٹ اور ایس ایم ایس کے ذریعے آگاہ رہ سکے گا جبکہ حکومت پنجاب کی یہ کوشش ہوگی کہ اوورسیز پاکستانیوں کا مسئلہ کم سے کم ایک ہفتے اور زیادہ سے زیادہ دو مہینے تک حل کرلیا جائے، یہ ایک انتہائی شاندار نظام تھا جسے کنونشن میں موجود تمام ہی اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی ،تقریب سے رانا ثناء اللہ نے بھی خطاب کیا جس میں اوورسیز پاکستانی کمشنریٹ کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے حوالے سے بھی وضاحت کی گئی.

اب میاں شہباز شریف کی ہال میں آمد کا اعلان کیا جارہا تھا تقریب میں موجود سرکاری حکام ،سیاسی رہنما اور اوورسیز پاکستانیوں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا ، کچھ دیر تک سرکاری افسران اوورسیز پاکستانیوں کو او پی ایف کمشنریٹ کے قیام،اس کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے آگاہ کرتے رہے جس کے بعد میاں شہباز شریف نے اسٹیج سنبھالا اور پھر وہی ہوا جس کی میاں شہباز شریف سے توقع کی جاتی ہے،میاں شہباز شریف نے ایک بار پھر اپنے جوش خطابت سے حاضرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا،میاں شہباز شریف اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ تھے، وہ جانتے تھے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ ہونا عام سی بات ہے لیکن اسے چھڑانا بہت مشکل کام ہے، میاں صاحب پٹواری کلچر کے نقصانات سے پوری طرح آگاہ تھے،میاں صاحب اوپی ایف کمشنریٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی بھی چاہتے ہیں، وہ پنجاب آئی بورڈ کی جانب سے بنائی گئی بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ویب سائٹ میں مزید بہتری چاہتے ہیں، وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وہ مرتبہ دینا چاہتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں اور جو مرتبہ آج تک کسی حکومت کی جانب سے انہیں نصیب نہیں ہوا، میاں شہباز شریف نے اپنے گیارہ ماہ کے دور حکومت کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔

تقریب کے اختتام کے بعد میاں شہباز شریف نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود سے بھی ملاقات کی، وہ جاپان سے آئے ہوئے ن لیگ جاپان کے صدر ملک نور اعوان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل جس میں جاپان میں پاکستانی اسکول کے قیام کی ضرورت ،سفارتخانے پاکستان کے افسران کا کمیونٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا نازیبا سلوک کی شکایات کو وفاقی حکومت سے اٹھانے کا وعدہ کیا، جبکہ جاپان میں مقیم سینئر پاکستانی اور منڈی بہائوالدین کے معروف سیاسی شخصیت چوہدری ظفر اقبال کی جانب سے ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ کی شکایت پر فوری طور پر آئی جی پنجاب کو مسئلے کے حل کے احکامات جاری کئے،جبکہ جاپان میں مقیم معروف پاکستانی اور لیگی رہنما میاں امجد علی تبسم کی جانب سے اوورسیز کی وفاقی وزارت کی جانب سے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا جبکہ بیرون ملک سے کی جانے والی فون کالز کے نرخوں میں کمی کا مطالبہ کیا جس پر میاں شہباز شریف نے فوری احکامات جاری کئے جبکہ یونان سے آئے ہوئی سینئر پاکستانی اور ن لیگ یونان کے صدر چوہدری اعجاز احمد کی جانب سے یونان میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے میاں شہباز شریف سے درخواست کی گئی جس پر انہوں نے فوری احکامات کے ذریعے ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو یہ باور کرانے کی کہ حکومت پنجاب نہ صرف اپنے اوورسیز پاکستانیوں کو انتہائی اہمیت دیتی ہے بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لیئے بھرپور کوششیں بھی کررہی ہے اوورسیز پاکستانی کنونشن ایک بہترین کوشش تھی تاہم اب وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لئے میاں شہباز شریف کی طرز کی حکمت عملی بنائے تاکہ سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جو پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں ان کا احساس محرومی نہ صرف کم کیا جاسکے بلکہ ان کو درپیش حقیقی مسائل کو بھی حل کیا جاسکے، ورنہ اس وقت تو وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی کے نام اور ان کی سیاسی جماعت سے تو اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت بھی واقف نہیں ہوگی۔