ترک سیاسی نظام کا مزاق اڑانے کی اجازت نہیں دیں گے، ترک صدر رجب طیب اردوان

tayeb erdogan

انقرہ (خبر ایجنسیاں/ میڈیا رپورٹ ) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہم کسی کو اپنے سیاسی نظام اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کی کسی صورت اجازت…   نہیں دینگے، استنبول میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فرانس ایمرجنسی کے ماحول میں انتخابات کراتا ہے تو اس وقت کوئی آواز تک نہیں نکالتا، لیکن جب ترکی کی باری آتی ہے تو سب لوگ نکتہ چینی شروع کردیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین اور اسکے اداروں نے ترکی پر جو نکتہ چینی شروع کر دی اسکاکوئی جواز نہیں ہے، یورپی یونین ریفرنڈم پرتنقید بندکرکے ترک قوم کے فیصلے کااحترام کرے.

صدر اردوان نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنے میں کامیاب ہو جائینگے ،اسکے بعد ترکی اور امریکا کے باہمی تعلقات بہتر ہو جائینگے ، واضح رہے کہ صدر اردوان آئندہ ماہ واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرینگے ، ترک صدر کے مطابق وہ اس ملاقات میں دونوں ممالک میں پائی جانیوالی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائینگے ، دریں اثنا ترک صدر کے مشیر علی نو چاوش نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو اختیار کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ یہ عالمی انصاف میں رکاوٹ بن چکا ہے ، علی نو چاوش نے کہا کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کو چاہیے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ویٹو کے اختیار سے دستبردار ہوجائیں ، دوسری جانب ترکی کے الیکشن کمیشن نے ریفرنڈم کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا،ریفرنڈم کے حق میں 5141الیکٹورل ووٹ اور مخالفت میں 4859ووٹ پڑے ،مجموعی طر پر ملک بھر میں 55ملین 3 لاکھ 19 ہزار 222 رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا