موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور اور اِس کے باسیوں کو سموگ کا سامنا کرنا پڑ گیا

لاہور ( آزاد دنیا نیوز ) موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور اور اِس کے باسیوں کو سموگ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ سموگ دھویں اور دھند کے مرکب کو کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اِس موسم کے دوران جب دھند بنتی ہے تو یہ فضا میں پہلے سے موجود آلودگی کے ساتھ مِل کر ایک سموگ بنا دیتی ہے۔ اِس دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب یہ تمام اجزا باہم مل جاتے ہیں تو سموگ پیدا ہوتی ہے جو بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تاہم لاہور کے علاوہ بھی دنیا کے کئی شہر سموگ کا شکار ہیں۔ ذیل میں سموگ کے حوالے سے دنیا کے دس شہروں کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔
بیجنگ، چین

چین کا دارالحکومت بیجنگ سموگ کے حوالے سے دنیا کا بد نام ترین شہر ہے۔ گرچہ اب دنیا کے کئی دوسرے شہر بیجنگ کی نسبت زیادہ سموگ کا شکار ہیں لیکن اب بھی جب سموگ کا ذکر آتا ہے تو لوگوں کے ذہنوں میں پہلا نام بیجنگ کا ہی آتا ہے۔ بیجنگ میں لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے ماسک پہنتے ہیں اور گھروں کے اندر ہوا کو صاف کرنے کے لیے فلٹر استعمال کرتے ہیں۔
احواز، ایران

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایران کا شہر حواز سموگ کے حوالے سے دنیا کا سب سے بد ترین شہر ہے۔ اس بد ترین سموگ کی وجہ شہر میں موجود ہیوی انڈسٹری ہے جہاں تیل، دھات اور قدرتی گیس کا وافر استعمال کیا جاتا ہے۔
اولان باتور، منگولیہ

منگولیہ کے دارالحکومت اولان باتور کو سموگ کے حوالے سے دوسرا بد ترین شہر قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ سردی کے موسم میں خود کو گرم رکھنے کے لیے اپنے گھروں میں کوئلہ اور لکڑی جلاتے ہیں جس کی وجہ سے فضائی آلودگی ستر فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔
لاہور، پاکستان

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں سموگ ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ لاہور میں اس بڑھتے ہوئے سموگ کی وجہ سڑکوں پر موجود بے پناہ ٹریفک اور کوڑا کرکٹ جلانے کا عمل ہے۔
نئی دہلی، بھارت

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں گاڑیوں کی تعداد پچھلے تیس سالوں میں ایک لاکھ اسی ہزار سے بڑھ کر ساڑھے تیس لاکھ تک ہو گئی ہے۔ لیکن دہلی میں سموگ کی اصل وجہ شہر میں موجود کوئلے سے چلنے والے پلانٹس ہیں جن کی وجہ سے شہر میں فضائی آلودگی میں اسی فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔
ریاض، سعودی عرب

ریاض بھی سموگ کے حوالے سے دنیا کے بد ترین شہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ اِس شہر میں سموگ کی وجہ ریت کے طوفان ہیں۔ یہ طوفان ہوا میں ذرات کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے سموگ کا لیول بڑھ جاتا ہے۔
قاہرہ، مصر

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سموگ کی وجہ بڑھتا ہوا ٹریفک اور انڈسٹری ہے۔ سموگ کی وجہ سے قاہرہ میں مقیم لوگوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ڈھاکہ، بنگلہ دیش

میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہر سال سموگ کی وجہ سے پندرہ ہزار لوگوں کی اموات ہوتی ہیں۔ ڈھاکہ کی فضاء میں سب سے زیادہ سلفر ڈائی آکسائڈ کی مقدار پائی جاتی ہے۔
ماسکو، روس

ماسکو بھی بد ترین سموگ کا شکار شہر ہے۔ یہاں کی فضاء میں ہائڈرو کاربنز کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم شہر کے مغربی حصے میں یوا کا معیار بہتر ہے۔
میکسیکو شہر، میکسیکو

میکسیکو شہر تین اطراف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے جن کی وجہ سے شہر میں آلودگی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ہوا میں سلفر ڈائی آکسائڈ اور ہائڈروکاربنز کی بڑی تعداد کی وجہ سے یہ شہر کافی سالوں تک سموگ کے حوالے سے دنیا کے بد ترین شہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ میکسیکو کی حکومت سموگ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے لیکن ابھی بھی یہ شہر سموگ کا شکار ہے۔