بالی وڈ اداکارہ ودیا بالن نازیبا الفاظ کہنے پر بھارتی فوجی پر برس پڑیں

بالی وڈ اداکارہ ودیا بالن نازیبا الفاظ کہنے پر بھارتی فوجی پر برس پڑیں میڈیا رپورٹ : ودیا بالن کا شمار فلم نگری کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہ بھارتی فلم سنسر بورڈ کی ممبر بھی ہیں۔ اداکارہ اپنی صاف گوئی کے باعث ہمیشہ سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اپنے رائے کا اظہار کھل کر کرتی ہیں۔ آج کل بالی وڈ اداکارہ اپنی نئی آنے والی فلم’تمہاری سلو‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں اور اسی دوران ایک نئے تنازع میں الجھ پڑی ہیں۔ اداکارہ نے فلم کی تشہیری مہم کے دوران’می ٹو‘ ہیش ٹیگ کے حوالے سے بھی انکشافات کیے تھے اور انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں ایئرپورٹ پر بھارتی فوجی اہلکار بری طرح سے گھور رہا تھا جس پر وہ الجھن کا شکار تھیں۔

میڈیا رپورٹ : ودیا بالن کا شمار فلم نگری کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہ بھارتی فلم سنسر بورڈ کی ممبر بھی ہیں۔ اداکارہ اپنی صاف گوئی کے باعث ہمیشہ سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اپنے رائے کا اظہار کھل کر کرتی ہیں۔

آج کل بالی وڈ اداکارہ اپنی نئی آنے والی فلم’تمہاری سلو‘ کی تشہیری مہم میں مصروف ہیں اور اسی دوران ایک نئے تنازع میں الجھ پڑی ہیں۔

اداکارہ نے فلم کی تشہیری مہم کے دوران’می ٹو‘ ہیش ٹیگ کے حوالے سے بھی انکشافات کیے تھے اور انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں ایئرپورٹ پر بھارتی فوجی اہلکار بری طرح سے گھور رہا تھا جس پر وہ الجھن کا شکار تھیں۔

اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو کہیں ان کے بیان کی حمایت کی گئی لیکن اس کے جواب میں ایک بھارتی فوجی جوان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

ویڈیو میں راہول سنگوان نامی بھارتی فوجی نے ودیا بالن کو شاعرانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے اداکارہ سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اخلاقی بنیادوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھارتی فوجی کی اداکارہ کے حوالے سے نازیبا شاعری کو یہاں بیان نہیں کیا جا رہا۔

بھارتی فوجی کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ اس طرح کی باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی کیوں کہ انہیں کسی سے اس بات کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے کہ وہ کتنی محب وطن ہیں۔

ودیا بالن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے عورتوں پر ہوتے رہتے ہیں اور ہر عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی کے دیکھنے اور چھونے کی شکایت کر سکتی ہے، اس طرح کی حرکتیں خواتین کی آواز دبانے کے لیے کی جاتی ہیں