جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،ماضی میں جانے کا فائدہ نہیں ،صدارتی نظام کی گنجائش نہیں،اگرحکومت کہے گی توڈرون گرادیں گے سینیٹ کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں بریفنگ

جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، آرمی چیف ،ماضی میں جانے کا فائدہ نہیں ،صدارتی نظام کی گنجائش نہیں،اگرحکومت کہے گی توڈرون گرادیں گے سینیٹ کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں بریفنگ اسلام آباد (آزاد دنیا نیوز) پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے ، آپ پالیسی بنائیں عمل کریں گے ،ماضی میں جانے کا فائدہ نہیں ،صدارتی نظام کی گنجائش نہیں،اگرحکومت کہے گی توڈرون گرادیں گے ،حافظ سعید سے کوئی تعلق نہیں دورے فوجی سفارتکاری کا حصہ ، تعلقات میں معاون ثابت ہوئے ،اسلامی اتحاد کے ٹی او آرز نہیں بنے ،جنرل باجوہ ، 3گھنٹے سینیٹرز کے سوالات کے جواب دیئے ،کھل کر بات ہوئی،ارکان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کو بریفنگ میں کہا ہے کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، فوج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کررہی ہے ۔کوئی کام آئین سے ماورا نہیں ہوگا،پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی بنائے اور ہم اس پر عملدرآمد کریں گے ،ڈرون گرانے کی ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہے ،اگر حکومت کہے گی تو گرادینگے ،
اسلام آباد (میڈیا رپورٹ/ ٹی وی / رپورٹ / آزاد دنیا نیوز) پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے ، آپ پالیسی بنائیں عمل کریں گے ،ماضی میں جانے کا فائدہ نہیں ،صدارتی نظام کی گنجائش نہیں،اگرحکومت کہے گی توڈرون گرادیں گے ،حافظ سعید سے کوئی تعلق نہیں دورے فوجی سفارتکاری کا حصہ ، تعلقات میں معاون ثابت ہوئے ،اسلامی اتحاد کے ٹی او آرز نہیں بنے ،جنرل باجوہ ، 3گھنٹے سینیٹرز کے سوالات کے جواب دیئے ،کھل کر بات ہوئی،ارکان

 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کو بریفنگ میں کہا ہے کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں، فوج اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کررہی ہے ۔کوئی کام آئین سے ماورا نہیں ہوگا،پارلیمنٹ دفاع اور خارجہ پالیسی بنائے اور ہم اس پر عملدرآمد کریں گے ،ڈرون گرانے کی ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہے ،اگر حکومت کہے گی تو گرادینگے ، ٹی وی پر تجزیہ کرنیوالے ہمارے ترجمان نہیں،صدارتی نظام کی گنجائش نہیں، پارلیمانی نظام کو چلنا چاہیے ۔ درپیش چیلنجز کے حوالے سے پالیسی گائیڈ لائن کی تیاری کے سلسلے میں منگل کی صبح دس بج کرپینتیس منٹ پرسینیٹ ہول کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس چیئرمین سینیٹ رضاربانی کی صدارت میں ہوا،جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خصوصی طورپر شرکت کی،اس موقع پر ڈی جی ایم آئی ، ڈی جی آئی ایس آئی ،ڈی جی ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ قومی سلامتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ آرمی چیف کے غیر ملکی دوروں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور کیا گیا ،چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے افتتاحی خطاب میں ایوان بالا آمد پر آرمی چیف کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے خارجہ پالیسی و قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے کردار سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کا مینڈیٹ ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ انہیں بہتر بنانے کے لیے گائیڈلائنز بھی فراہم کرسکتی ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی ابھرتے ہوئے علاقائی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کمیٹی کو قومی سلامتی اور اپنے بیرون ملک دوروں سے متعلق تفصیلی ان کیمرا بریفنگ دی۔جنرل باجوہ نے بریفنگ میں کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پارلیمنٹ کی ایک اہم کمیٹی میں شریک ہوا ہوں۔ بعض اہم ممالک کے دورے فوجی سفارتکاری کا حصہ ہیں اور علاقائی ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے دورے معاون ثابت ہوئے ۔بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کے واضح ثبوت ہیں، بھارت نے افغانستان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔انہوں نے کہاکہ خطے کی جیو اسٹریٹجک صورتحال پر گہری نظر ہے ، افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔آرمی چیف نے کہاکہ بارڈر مینجمنٹ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہے ۔ بھارت، امریکا کی منشا کے مطابق زبان استعمال کر رہا ہے ۔جس کے بعد ڈی جی ایم او نے قومی سلامتی کے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی، بعدازاں آرمی چیف نے تین گھنٹے تک سینیٹرز کے سوالات کے جواب دیئے ، ذرائع کے مطابق پرویز رشید نے سوال کیا کہ آپ نے حافظ سعید کو سپورٹ دی ہے ۔اس پر آرمی چیف نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃرفاہی تنظیم ہے ، فلاح و بہبود اور عوامی خدمت کررہے ہیں، ایسی تنظیمیں دنیا بھر میں موجود ہیں، پاک فوج کا حافظ سعید یا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے ،لاپتا افراد کے متعلق سوال کے جواب میں بھی جنرل باجوہ نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کو تفصیلی جواب دیا ،انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کی تعداد اتنی نہیں جتنا شور مچایا جارہا ہے ،کچھ لوگ آپس کی لڑائی میں مارے گئے ہیں ،کچھ لوگ بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں ،کئی لوگوں کو بیرون ملک فرار ہوتے پکڑا ہے ، ہمارے پاس لاپتا افراد کی فہرست ہے ، اس پہ کام کیا جارہا ہے ،انہوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ لاپتا افراد کو ضرور بازیاب کرایا جائے گا اور سامنے لایا جائے گا، اس موقع پرازراہ مذاق انہوں نے کہاکہ اس پر مزید بات نہیں کروں گا کہیں آپ میرے خلاف تحریک استحقاق پیش نہ کر دیں۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق سوالات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کی لڑائی نہیں ہوگی اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ، 41 اسلامی ممالک کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں اور ابھی اس اتحاد کے ضابطہ کار (ٹی او آرز) طے ہونا باقی ہیں ۔آرمی چیف نے کہاکہ پارلیمنٹ ہی سب کچھ ہے ۔ آپ لوگ پالیسی بنائیں، ہم عمل کریں گے ، ہم نے دیکھنا ہے ، آج کیا ہو رہا ہے ، آج کیا کرنے کی ضرورت ہے ، ماضی میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔سینیٹ کی ہول کمیٹی کا اجلاس پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ایک موقع پر حالیہ دھرنے سے متعلق ڈی جی آئی ایس آئی نے بتایا کہ دھرنا کہاں سے شروع ہوا ،کہاں کہاں اسٹاپ ہوا ،اس طرح فیض آباد تک پہنچا،دھرنے والوں کو راستے میں کس نے کیا سہولتیں فراہم کیں اس بارے میں انہوں نے کمیٹی کو تفصیل سے آگاہ کیا ،سینیٹرز نے بھی آرمی چیف کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان بریفنگ سے مکمل طور پر مطمئن ہے ، سول عسکری قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ، ارکان نے سوالات کئے جس کا عسکری قیادت نے تحمل اور صبر کے ساتھ جواب دیا ہے ، پاک فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے ، پاک فوج جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تسلسل کے حق میں ہے ، آرمی چیف کی بریفنگ سے سول و عسکری قیادت میں شکوک و شبہات ختم ہوگئے ہیں۔سینیٹر عتیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا جو سینیٹ کا دورہ ہے تاریخ میں پہلی بار ہے اور یہ اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ پارلیمنٹ ہی سب سے اول ہے ،انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے کہاکہ تمام اداروں نے تہیہ کیا ہے کہ مل کر کام کریں گے ، ہم خارجہ پالیسی پر قطعی طور پر مداخلت کرنا نہیں چاہتے اور جہاں کہیں پر ضرورت سمجھتے ہیں وہاں ہم درمیان میں آجاتے ہیں حکومت کا یہ فرض بنتا اور کام ہے کہ چاہے وہ داخلہ کے معاملات ہوں یا خارجہ کے دونوں پالیسی کے معاملات وہ اپنے طور پر خود حل کرے نہ کہ کسی کو درمیان میں آنے کا موقع دے ۔مشاہداللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی اور اہم دن ہے کہ پارلیمنٹ بالادست ہے لیکن اس کو آج باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے ، یہ بہت بڑی خوشخبری ہے قوم کیلئے اور میں یہ سمجھتا ہوں آج جو میٹنگ ہوئی اس کے دوررس اثرات ہوں گے ،رحمن ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج گائیڈ لائن نہیں میٹنگ ہوئی ہے ، یہ ایک سیشن تھا اس سیشن میں گورنمنٹ بھی بیٹھی تھی اور ملک کے تمام اعلیٰ، سول، عسکری حکام موجود تھے میٹنگ میں کوئی نوک جھونک نہیں ہوئی سوالات ہوئے ہیں اور سخت سوالات ہوئے ہیں اسے نوک جھونک نہیں کہتے ۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرمی چیف نے طویل بریفنگ دی اور یہ پہلی بار ہوا، ہر چیز پر کھل کر بات کی، تمام سینیٹرز نے سوالات کیے ، جنرل باجوہ نے بڑی تحمل مزاجی کے ساتھ تفصیلاً جواب دئیے ، جہاں جہاں ڈی جی آئی ایس آئی کی ضرورت پڑی انہوں نے بھی بات کی اور آج سب کے خدشات دور ہوگئے ۔ٹی وی کے مطابق سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی آرمی چیف سے ایوان میں غیر رسمی بات چیت بھی ہوئی جس کے دوران انہوں نے سربراہ پاک فوج سے سوال کیا کہ کیا فوج کو موجودہ رول سے بڑھ کر کردار چاہیے ؟ جس پر آرمی چیف نے کہا کہ فوج کا آئین میں جو کردار ہے اس سے مطمئن ہوں، فوج آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ٹی وی کے مطابق سینیٹر نہال ہاشمی نے بتایا کہ بریفنگ میں آرمی چیف نے کئی چیزیں واضح کیں، انہوں نے کہا کہ شام کو جو ٹی وی پر تجزیہ کرتے ہیں ان سے ہمارا تعلق نہیں۔سینیٹر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں، اس سے ملک کمزور ہوتے ہیں اور تفریق بڑھتی ہے ، ہمیں عوام کو جواب دینا ہے اور قانون کے مطابق چلنا ہے ۔سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ جنرل باجوہ نے پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار بریفنگ دی اور اس بریفنگ سے ملکی معاملات سمجھنے میں آسانی ہوئی، سینیٹ اور پاک فوج کی طرف سے خوش آئند قدم اٹھایا گیا اور ایسے اقدامات مستقبل میں بھی ہونے چاہئیں۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ بریفنگ میں دونوں طرف سے کھل کر بات ہوئی اور کھل کر سوال کیے گئے ، انہوں نے اپنا کھل کر مؤقف پیش کیا،انہوں نے کہا خوشی کی بات یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے تھے ، ان کے سامنے ریاست کا ایک ادارہ اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتا ہے ، اس ادارے نے عوام کے منتخب نمائندوں کو سوالات کے جواب دیئے ہیں یہ ایک اچھی پیشرفت ہے جو پاکستان میں شروع ہوئی اس سے جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد بڑھے گا، پاکستان کا جمہوری تشخص اور چہرہ دیکھا جائے گا کہ ہم ایک مہذب ملک ہیں۔فوجی حکام نے سینیٹ ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ 2015 میں فوجی عدالتوں کی بحالی کے بعد مذکورہ عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ ان مقدمات میں 161 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ 13 مجرموں کو آپریشن رد الفساد سے قبل اور 43 کو آپریشن کے آغاز کے بعد پھانسی دی گئی۔ 7 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر مقدمات پر کارروائی روک دی گئی تھی بعد ازاں 28 مارچ کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی گئی۔ فوجی حکام نے سینیٹرز کو بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھجوائے گئے ،جن میں سے 33 پر فیصلہ سنایا گیا، 8 کو سزائے موت اور 25 کو قید کی سزا دی گئی جبکہ 120 مقدمات 19 نومبر 2017 کو فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے ۔ذرائع کے مطابق سینیٹ ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے فوجی حکام نے بتایا کہ آپریشن رد الفساد کے تحت اب تک خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 1249 کومبنگ اور انٹیلی جنس بیس آپریشن کئے گئے ، پنجاب میں 13011 کارروائیاں کی گئیں، بلوچستان میں 1410 اور سندھ میں 2015 آپریشنز کئے گئے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب میں7 اہم آپریشن جبکہ بلوچستان میں 29 اہم آپریشنز کئے گئے ، سندھ میں 2 ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں 31 اہم آپریشنز کئے گئے ، مجموعی طور پر آپریشن رد الفساد کے دوران 69 اہم آپریشنز کئے گئے ۔ انٹیلی جنس اطلاعات پر مجموعی طور پر 18001 کارروائیاں کی گئیں اور4983 سرچ آپریشن کئے گئے ، جن میں سے پنجاب میں 4156، بلوچستان میں 45، سندھ میں 224، خیبرپختونخوا اور فاٹا میں 558 سرچ کریشن کئے گئے جبکہ اس دوران مجموعی طور پر 19993 ہتھیار برآمد کیے گئے ، جن میں پنجاب سے 2751، بلوچستان 2332، سندھ سے 1046، خیبر پختونخوا اور فاٹا سے 13864 ہتھیار بر آمد ہوئے ۔ٹی وی کے مطابق فوجی حکام نے سینیٹ کی ہول کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں 2013 سے 2017 تک دہشت گردی کے 257 واقعات ہوئے ۔ 2013 میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے 90 واقعات رونما ہوئے جبکہ اپریل اور مئی میں سب سے زیادہ ناخوش گوار واقعات ہوئے اور دونوں مہینوں میں 13، 13 دہشت گردی کے واقعات ہوئے ۔2014 کی بات کی جائے تو اس سال کا آغاز ہی دہشت گردی کے واقعات سے ہوا اور جنوری میں 13 واقعات ہوئے جبکہ جون اور دسمبر میں 10، 10 دہشت گردوں کے واقعات ملک کے مختلف حصوں میں رونما ہوئے اور اس سال دہشت گردی کے کل 87 واقعات ہوئے ۔2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی اور پورے سال میں 50 دہشت گردی کے واقعات ہوئے ، جس میں سب سے زیادہ 6، 6 واقعات مئی اور جون میں ہوئے ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے باعث 2016 میں دہشت گردی میں کافی کمی واقع ہوئی اور پورے سال میں دہشت گردی کے 14 واقعات ہوئے ، اس سال اپریل، مئی، جون اور جولائی میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جبکہ اس سال سب سے زیادہ 3 واقعات جنوری، مارچ اور اکتوبر میں پیش آئے ۔2017 میں جنوری سے اکتوبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق 16 دہشت گردی کے واقعات ہوئے ۔فوجی حکام کے مطابق کراچی میں 5 ستمبر 2013 سے رینجرز کی جانب سے جاری آپریشن کے دوران 5 برس میں کل 11200 آپریشن کیے گئے ، جس میں سے 2013 میں 1298 آپریشن، 2014 میں 3086، 2015 میں 2466 جبکہ 2016 میں 2022 اور 2017 میں اب تک 2328 آپریشن کیے گئے ۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کراچی آپریشن کے دوران 5 سال میں 24 رینجرز کے جوان شہید ہوئے ۔ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے بتایا کہ رینجرز کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے بعد کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی اور 2013 میں دہشت گردی کے 57 واقعات کے مقابلے میں 2017 میں صرف ایک واقعہ رونما ہوا، اس کے علاوہ 2014 میں 66 واقعات ہوئے جبکہ 2015 میں 18 اور 2016 میں یہ تعداد 16 رہی۔آپریشن کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی کمی آئی، 2013 میں 965 واقعات رونما ہوئے جبکہ 2017 میں 46 واقعات، 2014 میں 602، 2015 میں 199، 2016 میں 89 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے ، اسی طرح 2013 میں بھتہ خوری کے سب سے زیادہ 1524 کیسز ریکارڈ ہوئے جبکہ 2014 میں 899، 2015 میں 303، 2016 میں 101 اور 2017 میں ان کی تعداد 48 ریکارڈ کی گئی۔اس سے قبل آرمی چیف بذریعہ ہیلی کاپٹر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد وہ چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں چلے گئے ۔ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے ، جب کہ ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد نے ان کی آمد سے قبل وہاں انتظامات کا جائزہ لیا۔بعدازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے آرمی چیف کی بریفنگ سے متعلق میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ اجلاس کے دوران ایک گھنٹہ بریفنگ دی گئی اور 3 گھنٹے تک سوالات کے جواب دیئے گئے ،آرمی چیف کی بریفنگ میں اتفاق ہوا کہ ہم سب مل کر آگے چلیں گے ۔ترجمان پاک فوج کے مطابق سینیٹ کمیٹی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی جب کہ ڈی جی ایم او نے سیکیورٹی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ تمام سینیٹرز نے افواج پاکستان کے کردار کو سراہا اور قربانیوں کو تسلیم کیا جب کہ تمام سوالات میرٹ پر کیے گئے اور آرمی چیف نے ان کے تفصیلی جوابات دئیے ۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ تمام ارکان سوال نہیں کرسکے تاہم کچھ ارکان کے سوالات تھے جن پر آرمی چیف نے جواب دے کر ان کے تحفظات دور کر دئیے ۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ سینیٹ ممبران سیکیورٹی صورت حال پر زیادہ باخبر تھے ،اس موقع پراتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو لاحق تمام خطرات کا مل کر مقابلہ کریں گے ۔